برکت کی ایک سچی کہانی اور نصیحت سے بھری... کی برکت کیا ہے

یہ ایک حقیقت ہے اور اگر ایک چیز کی برکت نہ ہو تو کوئی فائدہ نہیں

Socioon.com

السلام و علیکم سب دوستوں کو امید ہے کہ سب خیریت سے ہونگے اور سوشیون آن کے پر کام کررہے ہونگے...

پرانے وقت کی کہانی ہے.. اور آپ سب جانتے ہیں کہ پرانے زمانے میں دولت کسی کسی کے پاس ہوتی... اسی طرح قحط سالی کا وقت اور غربت بہت زیادہ  تھی... لیکن اس وقت لوگوں کے ایمان مضبوط اور یقین اللہ پر سب سے زیادہ ہوتا... اس طرح ایک خاندان تھا... جس کے کچھ بجے بھی تھے اور ماشاءاللہ بیوی بھی تھی.. تو وہ آدمی پورے علاقے میں سب سے زیادہ غریب تھا... اور دیاڑی سے وقت گزرتا تھا.. وہ بھی کبھی مل جاتا.. اور کبھی نہیں .. تو ایک دن گھر آیا.. تو بیوی بہت ناراض تھی اور خفا سی... خاوند نے پوچھا کہ کیا ہوا.. بیوی بولی کہ گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہیں اور بچے بھوکے ہیں .. خاوند دلاسہ دیتے ہوئے

بچوں کو کسی طریقے سے سلایا اور نماز پڑھ کے سو گئے... رات کو خواب دیکھتا ہے.. 

کہ ایک بزرگ اس سے مخاطب ہو کر بولے.. کہ فلاں پتھر کے نیچے 100 روپے پڑھے ہوئے ہیں .. اٹھا لینا... یہاں یہ بات کہتا چلوں کہ پہلے زمانے کے لوگوں کی خوابیں سچی ہوتی... 

بزرگ سے بولنے لگے کہ کیا اس روبے کی برکت ہے .. جواب ملا کہ نہیں .. 

رات گزر گئ . صبح اٹھے بیوی کو خواب کے بارے میں بتایا... بیوی خوش ہوکے بولی کہ جا کے لے آ .. خاوند بولے کہ نہیں.. اس کی برکت نہیں ہے ... چلوں خاوند کام کے سلسلے میں گھر سے نکلے... لیکن کام نہیں ملا.. گھر واپسی پر بیوی نے کہا کہ کام نہیں ملا... کیا..

تو خاوند بولے کہ کام ملا لیکن فلاں ٹھیکیدار کی طرف ادھار ہوگیا.. بیوی چلانے لگی کہ . 5 پیسے کی مزدوری ملی وہ بھی ادھار.. اور وہ 100 بھی نہیں لائے... 

اللہ اللہ کرکے.. پھر سے رات کو سوگئے... رات کو پھر وہ بزرگ خواب میں آئے... اور گفتگو ہوئی کہ فلاں پتھر کے نیچے... 50 روپے.. ہے.. پوچھا گیا کہ کیا اس کی برکت ہے... جواب ملا کہ نہیں .. 

صبح بیوی کے ساتھ پھر خواب شریک کی .. بیوی ناراض ہوکے بولی.. کہ کل 100 نہیں لائے.. اب یہ 50 لے کے آنا... خاوند نے نفی میں سر ہلا دیا .. کہ اس کی برکت نہیں ہے .. 

دوسرے دن بھی کام نہیں ملا.. گھر واپس آکر وہی کہانی کے ٹھیکیدار کے ہاں ادھار ہوگیا.... پھر لڑائی کہ 10 پیسے کی مزدوری وہ بھی ادھار عجیب انسان ہو.. کوئی پرواہ ہی نہیں .  خیر مولوی کی دوڑ  مسجدتک... بیوی اور خاوند کب تک ناراض ہونگے... خیر سوگئے رات کو خواب دیکھا.. وہ بزرگ آئے اور کہا ..... کہ فلاں پتھر کے نیچے 1 روپے ہے.... اس شخص نے کہا کہ کیا اس کی برکت سے ہے.

جواب ملا کہ ہاں اس کی برکت ہے... صبح ہوئی صاحب نماز پڑھ کے سوگئے... جب سورج طلوع ہوا ... تو بیوی محترمہ بولی کہ ابھی تک سو رہے ہیں... سورج سر پر چڑھ آیا.... اٹھو کام پر جاؤ... خاوند نے کہا کہ فلاں پتھر کے نیچے ایک روپے ہے... وہ لے کے آؤگا...

بیوی سر پکڑ کے بیٹھ گئی .. کہ  100 بھی نہیں.... 50 بھی نہیں .. اور اب 1 روپے کے لیے جاؤگے .. خاوند بولے کہ اس کی برکت ہے...... 

وہ شخص گیا.. اس پتھر کے نیچے سے 1 روپے ملا... ★ ★ ★ وہ لے کے بازار گیا.. کہ بچوں کے لیے کچھ کھانے کا سامان لے کے آؤ .. اب جیسے ہی .. بازار میں داخل ہوئے ایک پہلوان نے ایک بڑا 

مچھلی کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے... وہ شخص پہلوان کے سامنے ہوئے کہا کہ یہ مچھلی کتنی کی ہے... پہلوان نے کہا دور ہوجا یہ تیرے بس کی بات نہیں ہے.... وہ شخص اصرار کرنے لگا. کہ بتا اس کی کیا قیمت ہے... 

پہلوان بولے.. کہ اس کی قیمت ایک روپے ہے... اس آدمی نے ایک روپے دے کے.... پہلوان سے مچھلی ? خرید لی.... 

مچھلی ? گھر لے آیا... بیوی ناراض کہ آپ کو کوئی اور چیز نہیں ملی کہ مچھلی لے کر آئے ... 

خاوند بولے.. کہ پگلی بچے بھی کھا لے گے.. اور پڑوسی بھی... پھر اللہ تعالیٰ دے گا... فکر کیوں کرتی ہے..... 

چلو چوریاں لے کر آؤ... دونوں شروع ہوگئے... ساتھ صفائی پر.... صفائی کرتے کرتے... بیوی کو 2 پتھر کے ٹکڑے ملے... بیوی بولی... اویے میرے اللہ کتنی پیاری ہے... یہ میں کمرے میں رکھو گی. . تو چمکے گیں .. خاوند نے کہا رکھ دو.... 

مچھلی کاٹی بیوی بچوں اور نے خوب کھایا...اور تقسیم بھی کیا..

کچھ دن گزرے کہ خاوند نے کہا کہ یہ کیا ہے اس کو کسی سونار کو دکھاتے ہیں ... ایک سونار کے پاس گیا... اس نے کہا کہ یہ میرے بس کی بات نہیں ہے.. فلاں سنار کے پاس جانے ... اس طرح بڑے بڑے سوناروں کے پاس سب نے انکار کیا... 

وہ آج کل کے سوناروں کی طرح بے ایمان نہیں تھے.... 

ایک سونار نے مشورہ دیا کہ... یہ صرف بادشاہ خرید سکتا ہے... لیکن اس تک پہنچنے سے پہلے وزیر آپ کو مار دے گے..... 

چلو صاحب گئے دربار میں .. بادشاہ سے ملنی کی چاہت کی... پر آگے بڑھ نہ پایا... بادشاہ کو خبر ہوئی .. بادشاہ نے ملاقات کی اجازت دے دی ... جیسے ہی بادشاہ سے ملاقات کی تو وہ پتھر دکھائی .  بادشاہ دیکھ کے... وزیر کو بلایا اور کہا کہ جاؤ خزانے میں کتنا مال ہے... 

وزیر جاکر آیا... اور بتایا کہ اس پتھر کی قیمت زیادہ ہے اور مال خزانے میں کم ہے.... بادشاہ نے وزیر سے پوچھا کہ پھر کیا کیا جائے.... 

بادشاہ کے پاس وزیر ہمیشہ چالاک اور ذہین ہوتے ہیں . . وزیر نے کہا کہ ان سے پوچھو کہ اگر آپ اپنی چادر بچھا دے تو کتنے چادر بھر کے یہ پتھر ہمیں دوگے.... 

بادشاہ نے ایسا ہی کیا... اور پوچھا... 

اس شخص نے 3 چادر بولی بادشاہ نے کہا کہ 5 لے کے جاؤ...

اس آدمی نے چادر بچھائی... اور 5 پنڈ لے کے گیا... اور پتھر بادشاہ کو دے دی.... وہ شخص وہ دولت گھ لے کر آئے .. اور کمرے کے ایک کونے میں رکھ دی... اور ایک اعلی شان کی کوٹھی بنانی شروع کر دی . 

وہ آدمی ایک روپیہ لگاتا ہے تو وہ لاکھوں کے برابر ہوتا ہے... اس طرح اس شخص نے ایک خوبصورت اور عمدہ بنگلہ تیار کیا..... 

اور  پیسے بھی زیادہ نہ لگے... وقت گزرتا گیا . ایک دن بادشاہ کو خیال آیا کہ اس شخص کے پاس دوسرا2

پتھر بھی ہوگا... 

سپاہیوں کو حکم دیاکہ جائیں اور اس شخص کو بلائے.... جب سپاہی اس کے پاس آئے تو کہا کہ بادشاہ سلامت نے یاد کیا ہے... وہ شخص بولے کہ بادشاہ سے کہنا کہ کام آپکا ہے تو آپ آئے. .

سپاہیوں نے پیغام واپس بادشاہ کو دیا... آج کے بادشاہ نہیں پرانے وقتوں کے بادشاہ تھے... اس نے کہا بات تو اس کی صحیح ہے... چلو چلتے ہیں.... 

بادشاہ آیا اور دیکھا تو وہ تو بادشاہ سے زیادہ امیر لگ رہا ہے .. چلو بادشاہ کی خدمت ہوئی... نوکر چاکر کیا بات تھی... وقت بدل گیا تھا.... ہر طرف نقشہ ہی بدل دیا تھا... 

بادشاہ نے خاوند اور بیوی سے پوچھا کہ آپ نے مجھے جو پتھر دیا تھا... اس کا آپکے پاس 2دوسرا جوڑا ہے. .... یہ

عورت بڑی تیز ہوتی ہیں .. وہ جٹ سے بولی کہ ہا ں ہے.. . 

بادشاہ نے کہا کہ وہ کتنے چادر  پر دو گے... یعنی پنڈ 

اس شخص نے کہا کہ بادشاہ سلامت وہ میرا وقت تھا بیچنے کا اور اب میرا وقت ہے.. . خریدنے کا.... آپ بتائیں... وہ ہیرا ? واپس کتنے کا دوگے.... جہاں پر کسی کو ایک ہیرا ملے تو اس کی دوسری جوڑی بھی ہوتی ہے... 

تو دیکھا برکت ایک روپے کی... 

محمد کامران سوشیون آن پاکستان 

0 Views

Story in Audio